سندھ ہیومن رائٹس کمیشن، آواز فاؤنڈیشن پاکستان, سینٹر فار ڈیولپمنٹ سروسز، اور ناری فاؤنڈیشن کے تعاون سے کراچی کے مقامی ہوٹل میں ڈسکشن فورم کا انعقاد کیا گیا . جس میں صوبائی اسٹیک ہولڈرز نے سندھ ایگریکلچر ورکرز ایکٹ 2019 کے موثر نفاذ کے لیے ضروری رولز کو حتمی شکل دینے پر زور دیا ..
صوبائی اسٹیک ہولڈرز الائنس کے دوسرے اجلاس میں سندھ میں خواتین زرعی کارکنوں کے لیے بننے والے قانون پر گفتگو کی گئی..
سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے چیئرپرسن اقبال ڈیتھو نے تمام صوبائی لیبر قوانین کو آئینی دفعات اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے کنونشنز کے مطابق نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اہم آئینی مضامین اور کنونشنز کو اجاگر کرتے ہوئے، اقبال ڈیتھو نے کام کی جگہ پر آزادی، صنفی مساوات، کام کا بہتر معاوضہ .صحت کی بنیادی ضروریات اور سماجی تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔
لیبر آفیسر ریجو مل نے اپنے خطاب کے دوران، سندھ وومن ایگریکلچر ورکرز ایکٹ 2019 کے لیے کاروبار کے قواعد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا سندھ وومن ایگریکلچر ورکرز ایکٹ 2019 جنوبی ایشیا میں ایک اہم قانون سازی کا سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوانین کو نظرثانی کے لیے آئی ایل او کو بھیج دیا گیا ہے اور اس کے بعد انہیں جانچ کے لیے محکمہ قانون کو بھیج دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا یہ ایکٹ زرعی شعبے میں خواتین کارکنوں کے لیے ان کی فلاح و بہبود، تحفظ اور حقوق کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقد مات کرتا ہے۔ کانفرنس میں موجودہ لیبر قوانین میں ترامیم اور ترقی پسند اقدامات جیسے کہ ٹرانسپورٹ کی فراہمی، خواتین ورکرز کے لیے علیحدہ سہولیات، اور سندھ بانڈڈ لیبر سسٹم (ختم کرنے) کے نفاذ کے لیے ڈسٹرکٹ ویجی لینس کمیٹیوں (DVCs) کے قیام پر بھی بات چیت ہوئی۔
جبکہ سندھ میٹرنٹی بینیفٹس ایکٹ 2018 اور سندھ ہوم بیسڈ ورکرز ایکٹ 2018 جیسے اقدامات پر بھی گفتگو کی گئی . ان کا کہنا تھا سندھ حکومت 22 فرسودہ قوانین کو منسوخ کرکے انہیں لیبر ریگولیشنز کو مزید ہموار کرنے اور مزدوروں کے لیے جامع تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ان کو مستحکم کرنا ہے۔ اس موقع پر شفقت لاڑک، محترمہ فرحت پروین، بیرسٹر ردا، اکرم خواجہ، عبدالحمید شیخ اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

