400 سیکنڈ میں تل ابیب‘: عالمی پابندیوں کے باوجود ایران نے ’اسرائیل تک پہنچنے والے‘ ہائپرسونک میزائل کیسے بنائے؟
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 فروری کی صبح ایران پر بڑے پیمانے پر حملوں کا اعلان کرتے ہوئے جہاں یہ کہا کہ اسے جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی وہیں ایران کے میزائل پروگرام کو بھی ہدف قرار دیا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'ہم ایران کے میزائل تباہ کریں گے اور ان کی میزائل صنعت کو زمین بوس کر دیں گے۔ یہ مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا۔' امریکی صدر نے ٹرتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران 'اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے اور ایسے طویل فاصلے پر مار کرنے والے میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو ہمارے بہت اچھے دوستوں اور یورپی اتحادیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔' ایران کے میزائل پروگرام کو حال ہی میں امریکہ اور ایران کے مابین ہونے والے مذاکرات میں کامیابی کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ سمجھا جا رہا تھا۔ امریکہ کا اصرار تھا کہ اِس معاہدے میں ایران کے بیلِسٹِک میزائل پروگرام پر بھی حدود مقرر کی جائیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اِس کے پیچھے بڑی حد تک ایران کے بارے میں اسرائیل کے تحفظات ہیں۔