شاداب خان نے خود کو قومی قیادت کی ریس سے دور کرلیا، ان کا کہنا ہے کہ کپتان کو تبدیل کرنے سے چیزیں بہتر نہیں ہوں گی
پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ کو خصوصی انٹرویو میں شاداب خان نے کہا کہ میں نے قومی ٹیم کی قیادت کا ابھی کچھ نہیں سوچا، ہم بہت جلد چیزیں تبدیل کرنے میں لگ جاتے ہیں کہ ایک کی جگہ پر دوسرا لے آئیں تو معاملات ٹھیک ہوجائیں گے، میرے خیال میں ایک پراسیس پر یقین رکھنا چاہیے،کبھی کبھار اچھے نتائج نہیں بھی آتے،ایک سال موقع دیا جائے تو نتائج بھی ملنا شروع ہوجاتے ہیں،کپتان کو تبدیل کرنے سے چیزیں بہتر نہیں ہوں گی،ابھی شاہین شاہ آفریدی کو ایک سیریز دی اور لوگ پیچھے لگ گئے ہیں، میرے خیال میں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
عماد وسیم کی واپسی سے بطور آل راؤنڈر اپنی پوزیشن خطرے میں پڑنے کے سوال پر شاداب خان نے کہا کہ میں نے کبھی ایسا نہیں سوچا، عماد کی واپسی کا بیان پاکستان کیلیے دیا تھا کیونکہ وہ بہترین آل راؤنڈر ہیں، جو اللہ تعالی نے میرے لیے لکھا ہے وہ تو مل کر رہے گا۔ اگر عماد فارم میں ہیں اور پاکستان کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں تو ان کو ٹیم میں ہونا چاہیے۔
ورلڈکپ میں پاکستان کے امکانات کے سوال پر شاداب خان نے کہا کہ ہماری ٹی 20ٹیم ہمیشہ اچھی رہی ہے،کچھ معاملات میں کام ہونے والا ہے،ایونٹ میں ٹیمیں تو سب مضبوط ہوں گی، دیکھنا ہوگا کہ اس وقت کون سی ٹیموں کے پلیئرز فارم میں ہیں،ابھی تو خاصا وقت باقی ہے۔
شاداب خان نے کہا کہ میری فیملی کو بھی اسلام آباد یونائیٹڈ کے چیمپئن بننے کا انتظار تھا،والدہ کو سفر میں مسائل ہوتے ہیں،اس لیے ملک میں ہی پاکستان کے میچز ہوں تو ٹیم کی سپورٹ کیلیے آتی ہیں،اہلیہ تو بیشتر مقابلوں میں ساتھ ہوتی ہیں،اس بار دونوں کی موجودگی سے حوصلہ افزائی ملی،ان کی دعائیں ہمارے ساتھ رہیں،کھیلنے والے اتنے دبائو میں نہیں ہوتے جتنا باہر بیٹھے لوگ محسوس کرتے ہیں، والدہ کو تو ہم نے بار بار پریشر کا شکار کرتے ہوئے مریض بنادیا ہے


.jpeg)