سندھ کراچی سے کشمور تک ملٹری گرینٹڈ اسلحہ ڈاکووں تک رسائی کا معامعہ
کل رات نو بجے کے قریب جیکب آباد پولیس کو خوفیہ اطلاع موصول ہوئی جہاں پر اسپیشل اسکوائٹ انچارج طارق کریم اور ایس ایچ او مولا داد اشتیاق احمد پٹھان نے زیرو پوائنٹ کوئٹہ کراچی بائی پاس پر ایک ویگو گاڑی اور پولیس موبائیل کو روک کر تلاشی لی گئی جس سے بین الصوبائی اسلحہ کی بڑی کھیپ برآمد کی گئی ، 3 پولیس اہلکار سمیت سات ملزمان کو پولیس نے حراست میں لے لیا
غیر قانونی اسلحہ میں ایک عدد جی تھری ، ایک عدد اہس ایم جی ، میگزین جی تھری 17 عدد ، ایس ایم جی 3 عدد ، جبکہ گولیاں 2350پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا ۔
13 مارچ وزہر اعلی سندھ سید مراد علی شاھ دڑی سندرانی میں ایم پی اے میر عابد خان سندرانی کی رہائش پر میڈیا پر بات کرتے دوراں کہا تھا کہ میں حیران ہو کہ کچے میں ملٹری گرینٹڈ اسلحہ کیسے پہنچ رہا ہے ؟
جیکب آباد کے بھادر آفسراں نے یہ خلاصہ کاروائی میں کرکے سندھ حکومت کو بتادیا کہ یہ اسلحہ کیسے کچے پہنچتا ہے
اس کیس کے متعلق ایف آء آر میں سرکار کی جانب سے انسپکٹر اشتیاق احمد پٹھان کی مدعیت میں 19،04،24
سیکشن 6/7ATA/ACT1997 کے تحت مذکورہ ملزم 1 ذاکر ولد شعبان بھیو
2 اختیار علی عرف زاھد حسین لاشاری
3 نبیل احمد بھیو
4 توفیق احمد گجر
یہ ملزمان اسلحہ اور گولیوں سمیت گرفتار ہوئے ہیں جبکہ جبکہ ویگو کے ساتھ ایک پولیس موبائیل بھی ساتھ تھی جو کہ ضلع شکارپور کی ہے جس میں ایک اے ایس آئی امتیاز علی بھیو سمیت 2 پولیس کانسٹیبلز 1 ثناء اللہ منگنھار 2 بقا اللہ انڑ کو بھی شک کے بنیاد پر گرفتار کرلیا گیا ہے
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یہ اسلحہ وزیر اعلی سندھ کے مشیر خاص بابل خان بھیو کے بیٹے جونئیر میر الطاف خان بھیو شامل تھے جب یہ کاروائی ہوئی تو سندھ کے سارے وزراء جونئیر الطاف خان کو کیس سے خارج کرانے کے لیے اپنی چوری کو چھپانے کے لیے میر الطاف خان بھیو کو چھڑایا گیا
واہ سندھ سرکار تیرا قانون اندھیر نگری چوپٹ راج کو مضبوط کرنے کے لیے سائیں سرکار کہتا ہے مجھے سمجھ نہیں آتا ملٹری گرینٹڈ اسلحہ کچے میں کیسے آرہا ہے ؟
مشیر وزیر اعلی سندھ میر بابل خان بھیو کا موقف
میر بابل خان بھیو نے اپنے موقف میں وزیر اعلی کے مشیر کے عہدے سے مستعفی ہوگیا ہوں ، کیوں کہ جیکب آباد سانحہ کے باعث میرے بیٹے میر الطاف خان بھیو کی گاڑی اور پولیس موبائیل کو جیکب آباد پولیس نے غیر قانونی طور پر کاروائی کرکے میری ویگو گاڑی اور پولیس موبائیل کو تحویل میں لے کر 7 ملزمان کو گرفتار کرکے تحویل میں لے لیا جو کہ انتہائی غیر قانونی عمل تھا جس کی شدید لفظوں میں مذمت کرتا ہوں اور عوامی عدالت میں آکر خود کو اور اپنے بیٹے کو صفائی پیش کرو نگا تاکہ عوام کو معلوم ہوسکے کہ جیکب آباد پولیس نے خود ڈرامہ رچا کر مجھے اور میرے بیٹے کو بدنام کیا ہے جنہیں برداشت نہیں کرسکتا اسی لیے میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہوا ہوں
ڈسٹرکٹ بار صدر ایڈوکیٹ محسن پٹھان کا موقف
بابل خان بھیو صاحب ایک معتبر اور قد آور شخصیت کے مالک ہیں جن کا امن و امان کے حوالے سے بہت اچھا کردار رہا ہے ، انہوں نے اپنے اہل خانہ پر عائد الزامات کے حوالے سے بڑا دلیرانہ فیصلہ کرتے ہوئے ، اپنے عہدے سے سبکدوش ہوکر ثابت کیا ہے کہ وہ جرائم کے خلاف ہیں ۔
اور خود کو ایک فئیر اور ٹرانسپرینٹ انویسٹیگیٹو کے حوالے کرکے عوامی عدالت میں ثابت کرنا چاھتے ہیں جوکہ خوش آئین اور قابل تعریف اقدام ہے اور ہم اس حوالے سے متعلقہ ادارواں سےفیئر اینڈ انویسٹیگیشن تو قدر کرتے ہیں ، اگرچہ سر عام غیر قانونی اسلحہ اسمگلنگ کرنے کے دوراں پولیس آفیسراں نے کاروائی کرکے عوام کو بڑے نقصان بچایا لیا ہے جنہیں ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں
اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکوو کے پاس جدید اسلحہ کیسے پہنچتا ہے , سندھ حکومت نے یہ بیانات دیتی ہے کہ اسلحہ کیسے پہنچتا ہے مگر تاحال تک پولیس و دیگر اداروں کی جانب تاحال تک اسلحہ کی فروخت کا کاروبار سر عام چل رہا ہے
میڈیازا نیوز ویڈیوز دیکھنے کہ لئے یہاں کلک کریں




.jpeg)
