نیب ترامیم فیصلے کیخلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت جاری

 نیب ترامیم کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت جاری ہے۔ بانی پی ٹی آئی اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوگئے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ کیس کی سماعت کررہا ہے، سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے وکیل خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ خواجہ صاحب کیا آپ اس کیس میں وکالت کریں گے؟ جس پر ان کا کہنا تھا کہ میں کیس میں عدالت کی معاونت کروں گا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا نیب ترمیم کے خلاف ہائیکورٹ میں درخواست اب بھی زیرالتواء ہے؟ مخدوم علی خان نے کہا کہ کل میں نے چیک کیا تھا، درخواست اب تک زیر التواء ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ کیا اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست سماعت کیلئے منظور ہوچکی تھی؟ مخدوم علی خان نے کہا کہ جی درخواست سماعت کیلئے منظور ہوچکی تھی۔

عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے نیب ترمیم کیس پر ہوئی سماعت کا حکمنامہ طلب کرکے مخدوم علی خان کو ہدایت کہ آپ اونچا بولیں تاکہ بانی پی ٹی آئی آپ کو سن سکیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف درخواست کب دائر ہوئی؟ مخدوم علی خان نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست 4  جولائی 2022ء کو دائر ہوئی، سپریم کورٹ والی درخواست کو نمبر 6 جولائی 2022ء کو لگا۔

مخدوم علی خان نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ میں درخواست پر پہلی سماعت 19 جولائی 2022ء کو ہوئی، جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر اس وقت رجسٹرار آفس کے اعتراضات کیا تھے؟ مخدوم علی خان نے کہا کہ رجسٹرار آفس نے اعتراض لگایا تھا کہ درخواست گزار نے کسی اور متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا۔

مخدوم علی خان نے عدالت میں بانی پی ٹی آئی  کی درخواست کی گراؤنڈ پڑھ دیں، کہا 19 جولائی 2022ء کو درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری ہوئے، جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ مرکزی کیس کی کل کتنی سماعتیں ہوئیں؟ جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ مرکزی کیس  کی مجموعی طور پر 53 سماعتیں ہوئی تھیں۔

میڈیازا نیوز ویڈیوز دیکھنے کہ لئے یہاں کلک کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی