قدرتی آفات کی شدت میں حالیہ دس سالوں کے دوران تیزی

قدرتی آفات  کی شدت میں حالیہ دس سالوں کے دوران  تیزی آئی .  جو سیلاب پہلے بیس سالوں میں ایک بار آتے تھے، اب ہر سال آنے لگے ہیں





 
ماحولیاتی تبدیلیاں دنیا بھر میں ایک اہم مسئلہ بنتی جا رہی ہیں۔ اس کی لپیٹ میں مختلف ممالک آ رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ گلوب وارمنگ میں اضافے کے باعث دنیا کے اوسط درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں قدرتی آفات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات دنیا کے لئے بہت بڑا چیلنج ہیں۔
 
سائنسی اعداد و شمار کے مطابق، قدرتی آفات  کی شدت میں حالیہ دس سالوں کے دوران  تیزی آئی ہے۔  جو سیلاب پہلے بیس سالوں میں ایک بار آتے تھے، اب ہر سال آنے لگے ہیں۔
وزارت منصوبہ بندی  اور ترقی کے تعاون سے کراچی کے مقامی ہوٹل میں ڈسکشن  فورم کا انعقاد کیا گیا .جس میں پاکستان کے مختلف شہروں سے آئے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے سرکاری اور غیر سرکاری افراد نے سیر حاصل گفتگو کی ۔۔  پرووینشل  کنسلٹیشن کے ستاون ویں سی پی ڈی اور آئی سی پی ڈی  سیشن میں مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے ماہرین  کا کہنا تھا .. ماحولیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں، خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں..پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے سندھ میں خشک سالی کی وجہ سے، خواتین کو کئی کئی میل دور سے پانی  لینے جانا پڑتا ہے۔ اسی طرح آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے بڑھتی غربت حاملہ خواتین کی صحت کو متاثر کرتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کی آفات نے خواتین کے روزگار کے مواقع کو بھی تباہ کر دیے ہیں ۔

ماہرین کے مطابق دیہی سندھ کے مختلف علاقوں میں  ضرورت سے زیادہ جنگلات کی کٹائی اور وسائل کی نا گزیر قلت مسائل کا سبب بنی ہے۔“ آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے خاندانوں کو مالی پریشانیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ جس کے سبب عورتوں کے بہت سارے بنیادی حقوق جیسے تعلیم، غذائیت اور صحت متاثر ہوئے۔
 بدلتے موسموں کی مناسبت سے خواتین کی تربیت، مہارت اور وسائل کے استعمال کے حوالے سے ان کے علم میں اضافہ، پالیسی سازی اور فیصلوں میں ان کی شمولیت کو یقینی بنانا، تا کہ فیصلے زمینی حقائق کی بنیادوں پر ہوں، اور ماحولیاتی تبدیلی کے صنفی امتیازی خطرات کو ختم کرنے کے لئے پالیسی سازی، اور عمل در آمد کے مابین پائے جانے والے فرق کو ختم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے ناقص پالیسیاں بھی اکثر خواتین کو مرکزی دھارے تک لانے میں ناکام رہی ہیں۔ اب ماحولیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات غریب اور نیم ترقی پذیر ممالک میں لوگوں کے گھروں کی دہلیز تک پہنچ چکے ہیں اور خواتین کو عدم مساوات کی صورت حال کا سامنا ہے۔ ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ پالیسی سازوں نے ہوش کے ناخن لے لیے ہیں اور پالیسیوں میں ترامیم کر کے صنفی عدم مساوات کے پہلوؤں کومد نظر رکھا جا رہا ہے۔
 
  •  l


ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی